جمعہ 21 اگست 2026 - 17:51
حوزه علمیہ میں بحرانی اور جنگی حالات میں بھی تعلیم و تربیت کا سلسلہ معطل نہیں ہونا چاہیے

حوزہ / قائم مقام مدیر حوزه علمیہ قم نے ہر حال میں طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: حوزه علمیہ میں بحرانی اور جنگی حالات میں بھی تعلیم و تربیت کا سلسلہ معطل نہیں ہونا چاہیے اور مدارس علمیہ کو حضوری اور سوشل میڈیا کے ذریعہ تعلیم کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے طلبہ کی علمی و معنوی ترقی کا سفر جاری رکھنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائم مقام مدیر حوزه علمیہ قم حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے مدرسہ عالی دارالشفاء کے امیرالمؤمنین (ع) ہال میں صوبہ قم کے مدارس علمیہ کے مدیران کے ساتھ منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کیا۔

انہوں نے گزشتہ تعلیمی سال کے مشکل حالات میں مدارس علمیہ کے مدیران، اساتذہ اور طلبہ کی کوششوں اور مجاہدانہ خدمات کو سراہتے ہوئے تعلیم کے تسلسل، علمی و معنوی سرگرمیوں کے فروغ، مدارس کے معیار کو بہتر بنانے اور کامیاب تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

قائم مقام مدیر حوزه علمیہ قم نے کہا: گزشتہ تعلیمی سال مختلف پہلوؤں سے ایک مختلف اور مشکل سال تھا اور حوزاتِ علمیہ ایسے حالات سے دوچار تھے جب ملک کو ایک ہمہ گیر جنگ کا سامنا تھا تاہم مدارس کے مدیران، اساتذہ اور طلبہ نے فعال اور مجاہدانہ موجودگی کے ذریعے حوزوی سرگرمیوں کو رکنے نہیں دیا۔

انہوں نے ان حالات میں مدارس کے مدیران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید کہا: بہت سے مدیران نے انتظامی عملے، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ مل کر دن رات محنت کی اور مختلف شعبوں بالخصوص میدان میں موجودگی، سماجی سرگرمیوں اور خدمت رسانی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ متعدد مدارس نے موکب لگانے، خدمت کے میدان میں موجودگی اور سماجی اتحاد و یکجہتی برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی مخلصانہ اور مجاہدانہ کوششیں کیں جو قابل تحسین اور قابل قدر ہیں۔

قائم مقام مدیر حوزه علمیہ قم نے جنگی حالات میں کیے گئے فیصلوں اور طلبہ و مبلغین کی میدان میں موجودگی کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایک مرحلے پر یہ تصور موجود تھا کہ تبلیغی اور عوامی کارکنوں کی موجودگی برقرار رکھنے اور سماجی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ممکن ہے کہ حوزه کی تعلیم کچھ عرصے کے لیے معطل کر دی جائے، تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ حتیٰ الامکان طلبہ کی تدریس بالخصوص تعلیمی امور معطل نہ کی جائیں۔

انہوں نے مدارس کے مدیران کی جانب سے تعلیمی استحکام کے پروگراموں پر عمل درآمد کو بھی سراہتے ہوئے کہا: سوشل میڈیا کے ذریعہ تعلیم اور حضوری تعلیم میں نمایاں فرق کے پیش نظر ضروری ہے کہ ان طلبہ کے لیے جنہوں نے تعلیمی سال کا کچھ حصہ غیر حضوری طور پر گزارا ہے، دروس کے تکرار، تثبیت، تکمیل اور تقویتی پروگرامز مرتب کیے جائیں تاکہ طلبہ نئے تعلیمی سال میں مناسب علمی تیاری کے ساتھ داخل ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha